جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
آستین چڑھا کر نماز پڑھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں !
کہ اگر کوئی شخص وضوء کرنے کے فوراً بعد رکعت نکل جانے کے خوف سے قمیص کی آستین نیچے کیے بغیر جلد نماز میں شامل ہوتا ہے، آستین چڑھا کر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟۔
واضح رہے کہ آستین چڑھا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے،اگر رکعت نکل جانے کے خوف سے آستین نیچے کیے بغیر جماعت میں شامل ہوگیا اور کہنیاں کھلی رہ گئیں تو نماز کے دوران عملِ کثیر کے بغیر آستین نیچے کرلینی چاہیے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک ہی رکن میں دونوں آستینیں نیچے نہ کرے، بلکہ مختلف ارکان کی ادائیگی میں حتی الامکان کم سے کم عمل کے ذریعے نیچے کردے، تو عملِ قلیل کی وجہ سے نماز پر اثر نہیں پڑے گا۔
لمافی"الرد المحتار على الدر المختار:"
"(قوله :كمشمر كم أو ذيل ) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله وأشار بذلك إلى أن الكراهة لاتختص بالكف وهو في الصلاة، كما أفاده في شرح المنية، لكن قال في القنية: واختلف فيمن صلى وقد شمر كميه لعمل كان يعمله قبل الصلاة أو هيئته ذلك ا هـ ومثله ما لو شمر للوضوء ثم عجل لإدراك الركعة مع الإمام، وإذا دخل في الصلاة كذلك، وقلنا بالكراهة، فهل الأفضل إرخاء كميه فيها بعمل قليل أو تركهما؟ لم أره، والأظهر الأول؛ بدليل قوله الآتي: ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل، تأمل(640/1)